سعودی حکومت کی شاپنگ مالز میں غیر ملکیوں کی نوکری کرنے پر پابندی


سعودی حکومت کی شاپنگ مالز میں غیر ملکیوں کی نوکری کرنے پر پابندی

وزارت محنت و سماجی ترقی کے مطابق شاپنگ مالز میں غیر ملکیوں کی نوکری کرنے پر پابندی کا فیصلہ سعودی باشندوں کی نوکریوں کے لیے جگہ بنانے کے تحت کیا گیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سعودی حکومت نے شاپنگ مالز میں غیر ملکیوں کے نوکری کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سعودی حکومت نے اپنے شہریوں کو مختلف شعبوں میں روزگار فراہم کرنے اور معاشرے میں بہتری لانے کی غرض سے وڑن 2030 کے نام سے منصوبہ بھی شروع کر رکھا ہے۔

اس منصوبے کے تحت قدرے قدامت پسند حکومت نے واضح تبدیلیاں کی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے بتایا کہ وزارت محنت و سماجی ترقی نے ہدایات کیں کہ تمام شاپنگ مالز میں سعودی مرد و خواتین کے کام کو یقینی بنایا جائے۔

ذرائع کے مطابق سعودی وزارت لیبر کی جانب سے یہ مختصر اعلان ایک ٹوئیٹ کے ذریعے کیا گیا، جس میں اس منصوبے کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں گلیوں سمیت صفائی کے دیگر کام اور ہوٹلز میں کھانے تیار کرنے جیسے دیگر کئی کام غیر ملکی سر انجام دیتے ہیں۔

سعودی حکومت کی جانب ایسے عام کاموں میں مقامی افراد کے لیے جگہ بنانے کی یہ پہلی کوشش ہے۔

نئی پالیسیوں کے تحت سعودی عرب کی ان کمپنیوں کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا جو مقامی افراد کے مقابلے غیر ملکیوں کو بھرتی کریں گی جبکہ رواں برس جولائی سے حکومت غیر ملکیوں پر بھی دوہرے ٹیکس نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری