انٹرویو | اسکاٹ بنٹ: اسرائیل کی خوش قسمتی ہے کہ ایران، روس اور شام اسے نابود نہیں کرتے + ویڈیو


انٹرویو | اسکاٹ بنٹ: اسرائیل کی خوش قسمتی ہے کہ ایران، روس اور شام اسے نابود نہیں کرتے + ویڈیو

سابق امریکی فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ صہیونی نہایت ہی خوش قسمت ہیں کہ ایرانیوں، روسیوں اور شامیوں نے ان کے ان سب ناجائز کرتوتوں پر نیست و نابود کرنے کے بجائے تاحال صرف ردعمل ظاہر کرنے پر ہی اکتفا کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق امریکی فوجی عہدیدار اسکاٹ بنٹ کا کہنا تھا کہ صہیونی نہایت ہی خوش قسمت ہیں کہ ایرانی، روسی اور شامی ان کے کرتوتوں پر صرف ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور اسے ہمیشہ کیلئے نیست و نابود نہیں کرتے۔

واضح رہے کہ اسکاٹ بنٹ موجودہ امریکی حکومت کے سرسخت ناقدین میں سے ہیں جبکہ انہوں نے "دھوکہ بازی" کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے امریکی سیاستدانوں کی جانب سے دہشتگردی کی مالی معاونت کے بارے میں ذکر کیا جبکہ اس کتاب نے رونمائی کے فورا بعد ہی امریکہ سمیت پوری دنیا میں ہلچل مچادی تھی۔  

اسکاٹ بنٹ جنہوں نے پہلی مرتبہ ایران کا سفر کیا، تسنیم نیوز ایجنسی کے نامہ نگار نے مشہد مقدس میں "افق" نامی بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر ان سے ایک مکالمہ ترتیب دیا ہے۔ انہوں نے اس مکالمے میں شام میں امریکی فوج کی موجودگی، امریکہ کی ایران ایٹمی معاہدے سے دستبرداری اور شامی سرزمین میں صہیونی دراندازی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

سابق امریکی فوجی عہدیدار کا خیال ہے کہ شام کی جانب سے کسی نے بھی امریکی فوج کو مداخلت کی دعوت نہیں دی ہے لہذا شام میں امریکی موجودگی جنگی جرائم میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے شامی ہم منصب بشار اسد کی دعوت پر اپنی فوجیں شام بھجوائی ہیں تاکہ وہ روسی فوج کی مدد سے سعودی وہابی دہشتگردوں کیخلاف اپنی سرزمین کا دفاع کرے۔ سی آئی اے اور موساد ان دہشتگردوں کی مالی معاونت کا فرض انجام دے رہے ہیں جبکہ اسرائیل ہی ان دہشتگردوں کیلئے رقم، اسلحہ، خفیہ پناہ گاہیں اور طبی امداد فراہم کرتا ہے۔

اسکاٹ بنٹ نے اس بیان کیساتھ کہ امریکی عوام کو اوپر کی معلومات کا علم نہیں ہے، اپنی بات جاری رکھی اور کہا: "وہ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی فوج دہشتگردی کیخلاف لڑ رہی ہے جبکہ وہ برعکس سعودی عرب کے آلہ کاروں وہابی دہشتگردوں کی مدد کررہی ہے، وہابی وہ فرقہ ہے جو نہایت ہی متعصب اور فکری لحاظ سے پریشان حال اور ذہنی طور پر خلفشار کا شکار ہیں۔

سابق امریکی فوجی عہدیدار نے تاکید کی کہ روس اور ایران نے شام کو نجات دی اور امید ہے کہ شام کی حمایت اور اس کی ترقی کیلئے ہرممکن اقدامات کو بدستور جاری رکھیں گے۔

انہوں نے شمالی شام میں امریکی فوج کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم مزید برداشت نہیں کرسکتے کہ امریکہ کسی اور ملک پر حملہ کرے اور اسے اندرونی خلفشار سے دچار کرے اور "انسانی حقوق، جمہوریت اور سرمایہ کاری" کے نام پر مزید خونریزی یا کسی بڑی جنگ کا سبب بنے۔

اسکاٹ بنٹ نے بین لااقوامی قوانین کے پیش نظر شامی سرزمین کیخلاف حالیہ صہیونی دراندازی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: "یہ جنگی جرائم میں سے ہے، وہ شام میں جنگ اور خونرزیزی کے درپے ہیں اور نہایت ہی خوش قسمت ہیں کہ ابھی تک ایران، روس اور شام نے اسرائیل کو نابود نہیں کیا۔"

تسنیم کے نامہ نگار نے ان سے سوال کیا کہ "ایران ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کے باوجود یورپی ممالک اس معاہدے کی پاسداری کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس دوران دوبارہ مذاکرات کی تجاویز بھی سامنے آنے لگی ہیں، آپ کے خیال میں یورپی ممالک پر اس معاملے میں اعتماد کیا جاسکتا ہے؟"

اسکاٹ بنٹ نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ یورپی ممالک امن و استحکام کے خواہاں ہیں اور ایران کیساتھ معاہدے کو دنیا کے امن اور استحکام کے طور پر دیکھتے ہیں اور اس بات سے بھی خوش نہیں ہیں کہ امریکہ اپنی من مانی کرتا رہے، پس میرے خیال سے یورپی ممالک آخر یہی کہیں گے کہ "نہیں، ہم ایران ایٹمی معاہدے سے دستبردار نہیں ہوسکتے"، کیونکہ امریکہ نے پناہ گزینوں کو یورپی ممالک کی طرف دھکیل دیا ہے جس کی وجہ سے ان ممالک کے عوام کی ثقافت اور زندگیاں رکاوٹوں اور گوناگوں مشکلات سے دوچار ہوئی ہیں۔ یورپی ممالک اس موضوع کے سبب امریکہ سے بہت ناراض ہیں کیونکہ یہ امریکہ ہی ہے جو ان سب مسائل اور مشکلات کا سبب بنا ہے۔

ان کا تاکید کیساتھ کہنا تھا کہ یہ وجہ ہے کہ یورپی ممالک روس کیساتھ دل کھول کر سلوک کررہے ہیں۔ روسی کہتے ہیں کہ ان تمام مسائل کے ذمہ دار باراک اوباما، ہیلری کلنٹن، جان برنین، وکٹوریا نولان اور تمام قدامت پسند صہیونی اور گزشتہ حکومت ہے۔ یہ مسائل ایران، روس اور چین کی وجہ سے وجود میں نہیں آئے ہیں لہذا ہم تصور کرسکتے ہیں کہ یورپی سیاسی اشراف کی جانب سے روس کیلئے نرم گوشہ موجود ہے جس کے سبب یورپی ممالک کے روس کے حوالے سے نقطہ نظر میں تبدیلی کا قوی امکان ہے

اہم ترین انٹرویو خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری